پاکستانی ہم جنس پرست امام مسجد کی جرمنی تک پہنچنے کی داستان

پاکستان سے تعلق رکھنے والے سمیر کی تربیت بچپن ہی سے ان خطوط پر کی گئی کہ انہیں مسجد کا امام یا مسلم مبلغ بنایا جا سکے۔ سمیر کو ہمیشہ سے علم تھا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں لیکن سماجی دباؤ کے باعث وہ کبھی اسے ظاہر نہیں کر سکے۔

تاہم جب یہ راز کھلا تو اُن کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔ سمیر نے کئی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کی کوشش کی لیکن ہر کوشش بے سود رہی۔ مہاجرت کے حوالے سے تازہ ترین خبریں اور مہاجرین کے تجربات پر مبنی رپورٹیں شائع کرنے والی ویب سائٹ انفومیگرانٹس کے مطابق سمیر نے اپنی کہانی کچھ یوں بیان کی،’’میں پاکستان میں  پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا۔ بچپن سے ہی مجھے معلوم تھا کہ میں دوسرے لڑکوں سے مختلف ہوں۔ مجھے لڑکیوں میں کبھی دلچسپی نہیں رہی لیکن میں نے اپنے اندر کبھی ایک عورت یا خواجہ سرا والی حس بھی نہیں پائی۔

ہائی اسکول میں میرے والد نے مجھے اسلامی تعلیمات پڑھنے کی ہدایت کی اور ایک طرح سے یہ اچھا ہی ہوا۔ اس دوران میں نے قرآن کی تعلیم بھی حاصل کی۔ مجھے پتہ چلا کہ نہ تو قرآن اور نہ ہی حدیث کی رُو سے میں غلط تھا۔ کیونکہ میں خدا کی تخلیق ہوں اور میں ویسا ہوں جیسا اُس نے مجھے بنایا۔ اور اگر میں غلط ہوں تو کیا خدا نے مجھے غلط بنایا؟ خدا غلطی نہیں کرتا اور میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد میں پاکستان سے باہر ایک دوسرے ملک منتقل ہو گیا اور وہاں میڈیا میں ملازمت شروع کر دی۔ زندگی بہتر ہو چلی تھی۔ میرے والدین میرے ساتھ رہتے تھے۔ تب اُنہوں نے جبراﹰ میری شادی کر دی جس کا اختتام محض تین ماہ میں ہی ہو گیا۔

سن دو ہزار ایک کے آغاز میں  ایک بار پھر  میں کاروبار کی غرض سے باہر  منتقل ہو گیا۔ میرے والد نے دوبارہ میری شادی کی جو کسی طرح میں نے آٹھ سال تک چلائی۔ اسی دوران خدا نے مجھے دو بچوں سے بھی نوازا۔ ایک دن میری بیوی کو میرے ہم جنس پرست ہونے کا علم ہو گیا اور اسی دن ہماری طلاق ہوئی۔

میری بیوی نے مجھے دھمکی دی کہ وہ مقامی اسلامی گروپ حزب اللہ سمیت سب کو میرے ’ہم جنس پرست‘ ہونے کے بارے میں بتا دے گی۔ میں ہمیشہ اپنے خاندان اور بچوں کے لیے جیتا رہا لیکن اپنی مرضی کی زندگی کبھی نہیں گزاری۔

میری بیوی نے اپنے والدین کو بتایا کہ میں ہم جنس پرست ہوں اور وہاں سے یہ خبر ایک انتہا پسند اسلامی گروپ، میرے گھر والوں اور میرے دوستوں تک پہنچ گئی۔ میں نے سن 2014 میں وہ ملک چھوڑ دیا۔

تب میں کچھ عرصے کے لیے برطانیہ چلا گیا کیونکہ میں وہاں چھ ماہ تک بغیر ویزے کے رہ سکتا تھا۔ مجھے پتہ چلا کہ صرف میری بیوی اور اُس کا خاندان ہی نہیں بلکہ میرے ماں باپ اور گھر والے بھی مجھے مارنے کے در پے تھے۔ میرے والدین کا کہنا تھا کہ تم اسلام کی تعلیم کیسے دے سکتے ہو؟ یہ مذہب کی توہین ہے۔

میرا برطانیہ کا ویزہ بھی ختم ہونے والا تھا۔ اس دوران میں یو کے میں ہم جنس پرست تنظیموں سے رابطے میں تھا اور اپنی داڑھی منڈوا چکا تھا۔ میں نے برطانوی حکام کو اپنی کہانی سناتے ہوئے پناہ کی درخواست دائر کی لیکن اُنہوں نے مجھے کچھ عرصہ حراست میں رکھنے کے بعد میری درخواست مسترد کرتے ہوئے پاکستان واپس روانہ کر دیا۔

میں پاکستان میں ’ایل جی بی ٹی‘ گروپوں کے ساتھ پہلے سے ہی رابطے میں تھا۔ انہی کا ایک نمائندہ مجھے ایئر پورٹ پر لینے بھی آیا۔ ہم تحفظ کی درخواست دینے پولیس اسٹیشن بھی گئے لیکن پاکستان میں ہم جنس پرستی قابل سزا جرم ہے۔ مجھے واپس بھیج دیا گیا۔ ایک روز میں کھانا کھانے ایک فاسٹ فوڈ ریستوران میں گیا۔ بد قسمتی سے اُس کا مالک میرا دور کا ایک رشتہ دار تھا۔ اُس نے مجھے پہچان لیا اور میرے بہنوئی کو اطلاع کر دی۔‘‘

Post Author: Admin